مبارک احمد کا شمار نثری نظم کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے اور احمد ہمیش کی طرح وہ بھی پاکستان میں نثری نظم کے اولین شاعر ہونے کے دعوے دار رہے ہیں۔ انہوں نے اردو نظم کو نئے خیالات اور نئے موضوعات سے آشنا کیا۔ انہوں نے اردو، پنجابی اور انگریزی تینوں زبانوں میں لکھا۔ ان کا ادبی سفر میرا جی اور ان کے معاصرین کے اثرات کے سائے میں شروع ہوا ۔ غزل، پابند نظم اور آزاد نظم بھی لکھی لیکن نثری نظم کو خصوصیت کے ساتھ اظہار کا وسیلہ بنایا۔ ان کی پیدائش گجرات میں 24 جولائی 1945ء کو ہوئی۔ زمیندار کالج گجرات سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد لاہور چلے آئے۔ اور ادبی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے۔ ان کا شمار قیام پاکستان کے فوراً بعد سامنے آنے والی نسل کے اہم ترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔ ان کے جدید تر شعری تجربے تخلیقیت کی اعلیٰ مثال تھے ۔ 1965ء میں ان کی طویل نظم ” زمانہ عدالت نہیں‘‘ کتابی صورت میں شائع ہوئی۔ بعد ازاں ’’کلیات مبارک احمد‘‘ کا پہلا حصہ 1999ء میں اور دوسراحصّہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ان کے مضامین کا مجموعہ ” مضامین مبارک‘‘ 2005ء میں اور ان کی نظموں کا انتخاب ’’منتخب نظمیں‘‘ 2011ء میں شائع ہوا۔آپ کی وفات 2004 میں ہوئی۔